وزیر اعظم عمران خان کا اقوامی متحدہ کے جنرل اسمبلی میں تقریر کے اہم نکات

Halatihazira
0

 

Imran Khan addressing the United Nations General Assembly (UNGA)
Imran Khan UNGA Speech

وزیر اعظم عمران خان کی اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر: اہم نکات

اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کی یہ دوسری تقریر تھی۔ یہ تقریر مصروفیات کے باعث ریکارڈ شدہ صورت میں پیش کی گئی۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے آغاز میں جنرل اسمبلی کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا اور وولکن فاسکر کو اقوامِ متحدہ کی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

ریاستِ مدینہ کے اصول اور نیا پاکستان

وزیر اعظم عمران خان نے صدرِ اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا وژن ایک نیا پاکستان ہے جو ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر قائم ہو۔ ریاستِ مدینہ کا بنیادی مقصد عوام کو غربت سے نکالنا اور ہر شہری کو بلا امتیاز انصاف فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور انصاف کے نظام کے قیام کے لیے امن اور استحکام ناگزیر ہیں، اسی لیے ہمسایہ ممالک میں امن پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ہدف ہے، جو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی تنازعات کا حل

وزیر اعظم نے کہا کہ اقوامِ متحدہ واحد عالمی ادارہ ہے جو مختلف ممالک کے درمیان تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ عالمی امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

وزیر اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کو کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے یاد دلائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے، جو نہ صرف تشویشناک بلکہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایسے تنازعات کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔

کووڈ 19، معیشت اور احساس پروگرام

وزیر اعظم نے کورونا وبا کے دوران غریب ممالک کو درپیش معاشی مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جاتا تو وبا سے زیادہ لوگ بھوک سے مر جاتے۔

اسی لیے حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی، زرعی شعبہ فوری طور پر کھولا گیا، اور بعد میں تعمیراتی شعبے کو فعال کیا گیا کیونکہ یہی شعبے عوام کی روزی روٹی سے جڑے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت نے احساس پروگرام کے تحت تقریباً 8 ارب ڈالر غریب طبقے اور صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے۔

منی لانڈرنگ اور عالمی ذمہ داریاں

وزیر اعظم نے منی لانڈرنگ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غریب ممالک سے ناجائز طریقوں سے دولت امیر ممالک منتقل کی جاتی ہے، جہاں اس کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک سے لوٹی گئی دولت کو ترقی یافتہ ممالک میں منتقل کرنے والوں کے خلاف عالمی سطح پر سخت قوانین بنائے جانے کی ضرورت ہے، جس کا ذکر وہ اپنی پہلی تقریر میں بھی کر چکے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور دس ارب درخت منصوبہ

وزیر اعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے دس ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد آنے والے برسوں میں کلائمٹ چینج کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کی دل آزاری

وزیر اعظم نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادیِ اظہار کے نام پر قرآنِ مجید کی بے حرمتی اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات کو روکنا عالمی امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔

بھارت، آر ایس ایس اور مسلمانوں پر مظالم

وزیر اعظم نے کہا کہ اسلاموفوبیا کو فروغ دینے میں بھارت پیش پیش ہے، جہاں آر ایس ایس کی نظریات پر مبنی حکومت قائم ہے، جو ہٹلر کی پالیسیوں سے متاثر ہے اور بھارت کو صرف ہندوؤں کی ریاست سمجھتی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ:

  • 1992 میں بابری مسجد شہید کی گئی
  • 2002 میں گجرات میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی نگرانی میں تقریباً 2000 مسلمان قتل کیے گئے
  • 2007 میں پچاس سے زائد مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم

وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مسلسل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بہادر کشمیری عوام کبھی بھی بھارتی قبضے کو قبول نہیں کریں گے۔

Post a Comment

0 Comments

Post a Comment (0)
3/related/default